ابنا: حسین امیر عبداللہیان نے سنیچر کو بیروت میں لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسيل سے ملاقات کے بعد کہا کہ جس شخص کا ضمیر بیدار ہے وہ غزہ پٹی کے باشندوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے بین الاقوامی حلقوں میں غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف لبنان کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تہران غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کو رکوانے کے لئے پوری کوشش کر رہا ہے اور وہ علاقے اور فلسطین میں مزاحمت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
حسین امیر عبد اللہیان نے فلسطین میں مزاحمت کی اعلی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران اسرائیل کو غزہ پر حملے کے ذریعے تسلط پسندانہ ہدف حاصل نہيں کرنے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھے اور اس نے مزاحمت کی شرط قبول نہ کی تو مزاحمت اس حکومت کو بھاری نقصان پہنچانے اور اسے الٹنے کے لئے پوری طاقت لگا دے گی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران غزہ پٹی پر غاصب اسرائیل کے حملے کو جاری نہیں رہنے دے گا۔ انہوں نے لبنانی وزیر خارجہ جبران باسيل سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے تہران کوشش جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں اور جرائم پر لبنان کے تعاون سے روک لگانے کے لئے ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے میں فلسطینیوں کی قابلیت اور طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں میں اس یادگار جدوجہد کو جاری رکھنے کی بہت طاقت ہے اور دو ہفتوں کے حملے کے دوران فلسطینی جيالوں نے اپنی فوجی طاقت کا صرف 3 فیصد حصہ استعمال کیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم پر کچھ ممالک کی معنی خیز خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا۔
.......
/169